شریعت اسلامیہ میں بلوغت ایک اہم مرحلہ ہے، جس کی بیناد پر انسان شرعی احکام کا مکلف بن جاتا ہے، جسیے ہی لڑکا یا لڑکی بالغ ہونے کی عمر میں داخل ہوتے ہیں، ان پر شرعی احکام لازم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
بالغ ہونے کا مطلب
بلوغ کا لغوی معنی ہے: “پہنچ جانا”۔ اسلامی اصطلاح میں جب لڑکا یا لڑکی تمیز و فرق کرنے کی عمر کو پہنچ جائیں اور شرعی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہوجائیں تو انھیں بالغ کہا جاتا ہے۔ بلوغت کے بعد انسان پر نماز روزہ، زکات، پردہ، حدود و تعزیرات جیسے اسلامی احکام لازم ہو جاتے ہیں۔ شریعت نے لڑکا اور لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر اور اس کی علامات بتائی ہیں۔ لڑکا اور لڑکی کب بالغ ہوتے ہیں، عمر اور علامت کیا ہیں آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔
فہرست مضامین
لڑکے کے بالغ ہونے کی علامات
لڑکے کے بالغ ہونے کی علامات یہ ہیں:
- احتلام ہونا، چاہے نیند کی حالت میں ہو یا بیداری کی حالت میں۔
- حمل ٹھہرنا، یعنی لڑکے نے کسی عورت سے جماع کیا اور اس عورت کو حمل ٹھہر جائے۔
لڑکی کے بالغ ہونے کی علامات
- لڑکی کو احتلام ہو جائے۔
- حیض آنا شروع ہو جائے۔
- یا لڑکی حاملہ ہو جائے۔
لڑکے کے بالغ ہونے کی عمر
لڑکے کے بالغ ہونے کی عمر کم از کم 12 سال ہے اور زیادہ سے زیادہ 15 سال ۔ یعنی بارہ سال عمر ہونے کے بعد اگر مذکورہ بالا علامتیں پائیں جائیں تو بالغ شمار کیا جائے گا، اور اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہوئی تو پندرہ سال کی عمر ہونے پر بالغ مان لیا جائے گا۔
لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر
لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر کم از کم 9 سال ہے اور زیادہ سے زیادہ 15 سال۔ یعنی نو سال کی عمر ہونے کی صورت میں اگر بالغ ہونے کی علامتیں ظاہر ہو گئیں تو تو لڑکی کو بالغ مانا جائے گا، اور اگر کوئی علامت نہ دکھی تو پندرہ سال کی عمر ہونے پر بالغ مانا جائے گا۔
لہذا اگر لڑکا 12 سال سے پہلے یا لڑکی 9 سال سے پہلے بالغ ہونے کا دعوی کرے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔ ہاں! جب دونوں 15 سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بالغ سمجھے جائیں گے چاہے بالغ ہونے کی علامتیں ظاہر ہوں یا نہ ہوں۔ اور ان پر شریعت کے تمام احکام مثلا نماز، روزہ، زکات، اور حج وغیرہ لازم ہوں گے۔
جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے:
” بلوغ الغلام بالاحتلام او الاحبال او الانزال و الجاریۃ او الحیض او الحبل کذا فی المختار، و السن الذی یحکم ببلوغ الغلام و الجاریۃ اذا انتھیا الیہ خمس عشرۃ سنۃ عند ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی و ھو روایۃ عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و علیہ الفتوی”۔
ترجمہ: لڑکے کا بالغ ہونا احتلام سے ہوگا یا حاملہ کرنے سے، اور لڑکی کا بالغ ہونا حیض سے ہوگا یا حمل ٹھہرنے سے، اسی طرح در مختار میں ہے۔ اور عمر سے لڑکا اور لڑکی کا بالغ ہونا اس وقت ہے جب وہ دونوں پندرہ سال کے ہو جائیں۔ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک، اور یہی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی بھی ایک روایت ہے۔ اور اسی پر فتوی ہے۔
( فتاوی ھندیہ، جلد:5، ص:61، دار الفکر بیروت)
اور بہار شریعت میں ہے:
” لڑکے کو جب انزال ہوگیا، وہ بالغ ہے وہ کسی طرح ہو سوتے میں ہو، جس کو احتلام کہتے ہیں، یا بیداری کی حالت میں ہو، اور انزال نہ ہو تو جب تک اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو بالغ نہیں، جب پورے پندرہ سال کا ہو گیا تو اب بالغ ہے علامات بلوغ پائے جائیں یا نہ پائے جائیں۔
لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔
لڑکی کا بلوغ احتلام سے ہوتا ہے یا حمل سے یا حیض سے، ان تینوں میں سے جو بات بھی پائی جائے تو وہ بالغ قرار پائے گی اور ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو جب تک پندرہ سال کی عمر نہ ہو جائے بالغ نہیں۔ اور کم سے کم اس کا بلوغ نو سال میں ہوگا، اس سے کم عمر ہے اور اپنے کو بالغہ کہتی ہو تو معتبر نہیں”۔
( بہار شریعت، جلد3، حصہ پانزدہم، ص:203، بلوغ کا بیان، دعوت اسلامی)
اسلام میں بلوغت کو بہت اہمیت حاصل ہے، لہذا والدین اور اساتذہ پر ضروری ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے ہی اپنے بچوں کی تربیت کریں، اور انھیں شریعت کے ضروری احکام سکھائیں تاکہ وہ بالغ ہونے کے بعد شریعت ہر عمل کر سکیں۔
عام سوالات (FAQs)
سوال1: لڑکا اور لڑکی کب بالغ ہوتے ہیں؟
جواب: اسلام میں لڑکے کے بالغ ہونے کی عمر 12 سے 15 سال ہے۔ اور لڑکی کے بالغ ہونے کی عمر 9 سال سے 15 سال ہے۔
سوال2: کیا لڑکا بارہ سال کے بعد اور لڑکی نو سال کے بعد بالغ ہو جاتی ہے؟
جواب: جی ہاں، لیکن یہ اس وقت بالغ مانے جائیں گے، جب لڑکے میں بارہ سال کے بعد اور لڑکی میں نو سال کے بعد بلوغت کی علامتیں پائیں جائیں، ورنہ دونوں پندرہ سال عمر ہونے پر بالغ مانے جائیں گے۔ اگر پندرہ سال تک کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔
سوال3: کیا بلوغت کے بعد شرعی احکام بدل جاتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، بلوغت کے بعد شرعی احکام مثلا نماز، روزہ، زکات وغیرہ لازم ہو جاتے ہیں، اگر جان بوجھ کر ترک کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔
سوال4: کیا بلوغت کے بعد لڑکا اور لڑکی کا میل جول جائز ہے؟
جواب: بالغ ہونے کے بعد غیر محرم لڑکا اور لڑکی کا میل جول جائز نہیں، اسلام میں پردہ اور شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
سوال5: کیا حیض اور احتلام کے بغیر بھی بلوغت ثابت ہو سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر لڑکا یا لڑکی کی عمر 15 سال ہو جائے اور بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو وہ بالغ مانے جائیں گے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
کتبہ محمد اشرف رضا مصباحی
15/ صفر المظفر 1447ھ بمطابق 9 اگست 2025