اعتکاف اسلامی عبادات میں سے ایک اہم عبادت ہے، جو خاص طور رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد میں ادا کیا جاتا ہے۔ جس میں بندہ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے عبادات، دعا، ذکر، تلاوت قرآن ، توبہ و استغفار اور نیکیاں جمع کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ یہ ایک روحانی ستھرائی اور اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔
اعتکاف کی تعریف
اعتکاف کا لغوی معنی ہے: رک جانا، ٹھہر جانا، قیام کرنا اور خود کو کسی جگہ روک لینا۔
شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کی تعریف ہے: مسلمان عاقل جو جنابت سے پاک ہو، اس کا مسجد میں اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے قیام کرنا۔
فہرست مضامین
قرآن و حدیث سے اعتکاف کا ثبوت
اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
” وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ”۔
ترجمۂ کنز الایمان: اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔
( پارہ:2، سورۃ البقرہ، آیت:187)
اس آیت سے اعتکاف کے جواز کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخر عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے۔
( صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، حدیث 1172)
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال اعتکاف نہ کر سکے، جب اگلا سال آیا تو حضور ﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ ( ترمذی شریف)
اعتکاف کے فضائل
ابن ماجہ کی حدیث پاک میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا: ” وہ گناہوں سے باز رہتا ہے، اور نیکیوں سے اسے اس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں۔
( ابن ماجہ، باب فی ثواب الاعتکاف، حدیث: 1781)
اور شعب الایمان میں ہے: حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے۔
( شعب الایمان، باب الاعتکاف، حدیث: 3966)
پتہ چلا کہ
- معتکف کو اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
- اس کے گناہ بخش دییے جاتے ہیں۔
- اس کے پاس ثواب کا ذخیرہ ہوتا ہے۔
- دو حج اور دو عمرے کا ثواب ملتا ہے۔
اعتکاف کی اقسام
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:
- واجب
- سنت مؤکدہ
- مستحب
واجب اعتکاف
واجب اعتکاف یہ ہے کہ اعتکاف کی نذر یا منت مانی، جیسے کسی نے کہا: ” اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک دن، دو دن، یا تین مسجد میں اعتکاف کروں گا۔
اس میں زبان سے بولنا ضروری ہے، اگر کسی نے صرف دل میں نیت کر لی اور زبان سے نہیں بولا تو واجب نہیں ہوگا، نیز اس میں اعتکاف کے وقت روزہ رکھنا بھی شرط ہے۔
( ماخوذ از: بہار شریعت، حصہ 5، اعتکاف کا بیان)
لڑکا اور لڑکی کب بالغ ہوتے ہیں؟
سنت مؤکدہ اعتکاف
رمضان المبارک کے آخری عشرہ یعنی آخر کے دس دنوں میں جو اعتکاف کیا جاتا ہے، وہ سنت مؤکدہ ہے۔
یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شہر کی مسجد میں کسی ایک نے بھی اعتکاف کر لیا، سب بری ہو گئے۔ اور اگر کوئی بھی اعتکاف میں نہیں بیٹھا تو سب سے مطالبہ ہوگا۔
سنت مؤکدہ اعتکاف کا وقت
رمضان کی بیس تاریخ کو سورج ڈوبنے سے پہلے بہ نیت اعتکاف مسجد میں موجود ہو، اور تیس رمضان کو سورج غروب ہونے کے بعد یا انیتس تاریخ کو چاند نظر آنے کے بعد مسجد سے نکلے۔ اگر بیسویں رمضان کو مغرب کے بعد اعتکاف کی نیت کی تو سنت مؤکدہ ادا نہیں ہوا۔
مستحب اعتکاف
مذکورہ دو اعتکاف کے علاوہ جو اعتکاف کیا جائے، اسے مستحب و سنت غیر مؤکدہ کہتے ہیں۔
مستحب اعتکاف میں نہ روزہ شرط ہے اور نہ کوئی خاص وقت اور دن مقرر ہے، جب بھی کوئی مسجد میں داخل ہو اعتکاف کی نیت کر لے، معتکف ہو گیا، جیسے ہی مسجد سے باہر نکلا اعتکاف مکمل ہوگیا۔
( ماخوذ از: بہار شریعت، حصہ 5، اعتکاف کا بیان)
اعتکاف کے اہم مسائل
- مرد صرف مسجد میں اعتکاف کر سکتا ہے۔
- عورت گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لیے خاص کر رکھی ہے۔
- معتکف کو مسجد میں کھانا، پینا اور سونا جائز ہے۔
- اعتکاف واجب اور سنت میں بلا ضرورت مسجد سے باہر نکلنا حرام ہے، باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
- اعتکاف کی حالت میں عورت سے جماع کرنا، بوسہ لینا، شہوت سے چھونا یا گلے لگانا حرام ہے۔
اعتکاف کے دوران مسجد سے باہر نکلنا
صرف دو عذر کی وجہ سے معتکف مسجد سے باہر جا سکتا ہے:
- حاجت ظبعی
- حاجت شرعی
حاجت طبعی
یعنی طبعی ضرورت جو مسجد میں پوری نہیں کی جا سکتیں جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل، اگر غسل کی ضرورت ہو اور مسجد میں کوئی انتظام نہ ہو۔
حاجت شرعی
یعنی شرعی ضرورت مثلا عید یا جمعہ کی نماز کے لیے دوسری مسجد میں جانا، جب کہ اس مسجد میں عید اور جمعہ کی نماز نہ ہو رہی ہو۔ یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا جب کہ منارے پر جانے کا راستہ باہر ہی سے ہو۔
( ماخوذ از: بہار شریعت، حصہ 5، اعتکاف کا بیان)
غرض اعتکاف ایک عظیم عبادت اور روحانی ترقی کا ایک اعلی ذریعہ ہے۔ معتکف دنیاوی مشاغل بے نیاز ہو کر اللہ کی یاد میں مشغول ہو جاتا ہے۔ جس سے اس کے گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے اور وہ اللہ تعالی کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔
عام سوالات (FAQs)
سوال 1: اعتکاف کب شروع اور ختم ہوتا ہے؟
سنت اعتکاف بیسویں رمضان کی شام سے عید کے چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔
سوال 2: عورت گھر میں اعتکاف کہاں کرے؟
عورت گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے جو اس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کی ہے۔ اس جگہ کو مسجد بیت کہتے ہیں۔
سوال 3: کیا عورت اعتکاف کی صورت میں مسجد بیت سے نکل سکتی ہے؟
عورت بغیر عذر کے اعتکاف کی جگہ سے نہیں نکل سکتی، اگر نکلے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، چاہے گھر ہی میں رہے۔
سوال 4: کیا اعتکاف کے دوران موبائل استعمال کر سکتے ہیں؟
اگر کسی ضرورت کے تحت ہو تو استعمال کر سکتے ہیں جیسے قرآن کی تلاوت کرنے کے لیے یا علم دین سیکھنے کے لیے، لیکن اعتکاف کے دوران فضول بات چیت یا سوشل میڈیا استعمال کرنا اعتکاف کے مقصد کے خلاف ہے۔
سوال 5: کیا اعتکاف کے لیے وضو ضروری ہے؟
اعتکاف کے لیے وضو ضروری نہیں، لیکن با وضو رہنا مستحب اور افضل ہے۔
سوال 6: کیا اعتکاف میں روزہ ضروری ہے؟
واجب اعتکاف اور سنت مؤکدہ اعتکاف میں روزہ ضروری ہے۔
سوال 7: اعتکاف ٹوٹنے کی صورت میں کیا حکم ہے؟
اعتکاف ٹوٹ گیا تو اس کی قضا کرے۔ جس دن کا اعتکاف ٹوٹا ہے صرف اسی دن کی قضا کرے، پورے دس دن کی قضا ضروری نہیں۔ ( بہار شریعت، اعتکاف کا بیان) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
کتبہ محمد اشرف رضا مصباحی
15/ صفر المظفر 1447ھ
10/ اگست 2025ء اتوار